انسانی جذبات و فطرت (u)

فالله سبحانه  قد رکب  فی النفس  الانسانية قویّ مختلفة:فمنها قوة العدل الذی یزین لها الانصاف، و یحبب اليها موافقة الحق۔  ومنها قوة الغضب و الشهوة  اللذان یزینان لها  الجور والظلم، ویعمیانها عن طریق الرشد.. ومنها قوة الفهم الذی یلیح لها الحق  من قریب۔۔ ومنها  جهل یطمس عليها الطریق ویساوی  عندها بین السبل …. ومنهاقوة التمییز الذی به تفهم الخطاب، و تعرف  به الاشیاء ‏‏علی ماهي عليه..ومنها قوة العقل الذی یعین النفس الممیزه علی نصرة العدل، و ایثار الحق، و کراهية الباطل، ورفض ما قاد اليه الجهل و الشهوة، والغضب المولد للعصبية وحمية الجاهلية

 اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں مختلف جذبات ودیعت کر دیۓ  ہیں ان میں کچھ مثبت ہیں مثلا عدل و انصاف، فہم و تمیز۔  اور کچھ منفی ہیں جیسا کہ غصّہ،  اورشہوت۔

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا

پھر اس (نفس) میں اسکی  بدی و پرہیزگاری کو الہام کر دیا (الشمس)

 ان جذبات   کا استعمال انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہےجس کی حیثیت و اہمیت  تمام جذبات میں برتر ہے۔

عدل و انصاف جس کی وجہ سے  انسان حق کو نہ صرف اپنے لیۓ پسند کرتا ہے بلکہ دوسروں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتا ہے۔  بعض حالات میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں بھی کیۓ جاتے مگر توقع اور طلب بہرحال دل میں موجود ہوتے ہیں۔ بعینہ اللہ تعالی نے انسان کو سمجھ بوجھ (فہم)کی صلاحیت سے نوازا ہے۔اس کے اندر قوت تمیز رکھی ہے جس کے ذریعے وہ  چیزوں میں انکےمقام کے لحاظ سے  فرق کرتا ہے،نیکی اور بدی میں  فرق، حق اور باطل میں تمیز کے ساتھ ساتھ وہ حق کو واضح اور روشن صورت میں پہچانتا ہے۔

اسی طرح  غصّہ،  اورشہوت بھی فطری جذبے ہیں انہی کا مجموعہ جہالت ہے۔ غصّے میں شیطان  عقل پر غالب آ جاتا ہے اور انسان سے ایسے کھیلتا  ہے جیسے کوئی بچہ اپنی گیند کو ٹھوکر لگاتا ہے ۔ گویا یہ جذبہ نیکی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

 شیخ عبد القادر جیلانی کا قول ہے کہ “جب تک تیرا  غرور اور غصہ باقی ہے اپنے آپ کو نیک لوگوں میں شمار نہ کر”۔

یہ منفی جذبات نہ صرف ظلم وجبر کو آراستہ و سہل کر دیتے ہیں بلکہ انسان رشد و ہدایت(حق) سے اندھوں جیسا  برتاؤ کرتا ہے رستے کے نشیب و فراز اس کے لیۓ  ایک  جیسے ہو جاتے ہیں اور نتیجتا  وہ  سیدھی اور واضح راہ  گزر کو چھوڑ کر پگڈنڈیوں کی طرف لپکتا ہے۔وہ تردّد میں مبتلا رہتا ہے،  اس کا حال  اس مسافر کا سا ہوتا ہے جو منزل کےتعین کے  بغیر ادھر ادھر بھٹکتا پھرے۔

 كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ

اس شخص کی طرح جس کو شیطانوں نے راستہ بھلا دیا ہو(اور وہ) زمین میں سرگرداں ہو (الانعام: 71)

اور ان تمام  جذبات کا نچوڑ عقل ہے جو اگر  معاملات میں فہم اور پرکھ  کے ساتھ استعمال کی جاۓ تو  وہ انسان کو  انصاف کا ساتھ دینے پہ آمادہ کرتی ہے، حق کی ترجیحات کو واضح کرتی ہے اور باطل سے بیزاری اور نفرت  کو جنم دیتی ہے اور انسان ہر اس راستے اور طریقے کی نفی کرتا ہے جو جہالت پر مبنی ہو۔

Advertisements

One comment on “انسانی جذبات و فطرت (u)

Say your heart out!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s