شیطانی ہتھکنڈے (u)

وكل بني ادم خطاء وخير الخطائين التوابون. ومن عثر علي شىيئ مما طغى به القلم‘ أو زلت به القدم فليبادر إلي النصيحة….. وان الحسنات يذهبن السيئات …. واحذر من الشيطان أن ينقلك من روضة الدعاءو النصيحة إلي بحر العداوة‘……….. فتلدغ لدغ العقرب‘ وتلسع لسع الحية‘ و تنهش نهش الأسد… وتقذف بهذا السموم في مقال مقروء‘ أو بيان متلو‘….ويأخذ الناس حسناتك وتقدم على الله مفلساً نادماً.

ہر بنی آدم خطاکار ہے اور بہترین خطاکار توبہ کرنے والے ہیں۔

انسان کی منفی قوتیں اُسے برائي کی طرف لے جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ  ایسی غلطی کر جاتا ہے جس کا حاصل ندامت اور پچھتاوے کے سوا  کچھ نہيں ہوتا۔  ایسی صورتحال میں دو رویّے  ہوتے ہیں:۔

1۔  جونہی انسان پر اپنی غلطی ، قلم(تحریری) کی سرکشی و بغاوت یا قدم (عملی) کی لغزش آشکار ہوتی ہے تو وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوۓ دعا کا سہارالیتا ہے اور اللہ کے حضور  توبہ کرتا ہے۔ اِس کا بہترین حل یہ ہے کہ :۔

– اگر اُس غلطی کی اصلاح کی جا‎ۓ تو وہ نصیحت  قبول کرنے میں دیر نہیں کرتا۔

– اسی طرح اگر وہ کسی کو غلطی پر دیکھے تو اُس کو نصیحت و   اصلاح  کرنے میں متامل نہیں ہوتا۔

  اگر برا‏‏ئي کا احساس باقی رہے اور ضمیر پر بوجھ بن جاۓ تووہ برا‎‏ئی کو اچھائی سے دور کرنے کی، مٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ انسانوں سے انسانی سطح پریہ جانتے ہو‎‎ۓ  معاملات کرتا ہےکہ انسان خطا کا پتلا ہے اُس سے کمی کوتاہی ہو جاتی ہے لہذا دوسروں کو  کمزور اور عاجز سمجھ  کر ان کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے ۔بلا شبہ نیکیاں ہی برائيوں کو دور کرتی ہیں۔

ان الحسنات يذهبن السيئات

  2۔ دوسری طرف  اُس کا نفس اُس کے لیۓ تاویلیں گھڑ لیتا ہے اور وہ توبہ سے منحرف ہو کر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی ذات ہی کا دشمن بن جاتا ہے۔ جسکی وجہ سےنہ صرف  ا‌ُس کے اندر بدگمانی پرورش پاتی ہے بلکہ وسوسے اور بدگمانیاں تعلقات کو بھی ڈس لیتے ہیں۔

اٍِس کے ساتھ ہی شیطان اُسکے ہاتھ میں انسانوں کو کاٹنے کے لۓ  غیبت و چغلی کی چھری تھما دیتا ہے اسکی یہ عادات اُس کے اپنے نفس کے علاوہ دوسروں کو بھی ڈنگ مارتی ہیں اور عزت کو بھنبھوڑ کے رکھ دیتی ہیں۔ اُس کی تحریریں زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر اِس زہر کا اثر  اُس کے لہجے سے چھلکنے لگتا ہے ۔ اگر کبھی ضمیر ملامت کرے بھی تو شیطان اسکو تھپکیاں دیتا ہے  کہ نہيں اصل میں تو تم نصیحت کا کام کر رہے ہو یہي نیکی ہے اور تم ہی درست ہو جس سے وہ اور سرکش ہو جاتا ہے اوربرائي کے راستے پر سرپٹ دوڑتے ہوۓ یہ احساس نہیں رہتا کہ کب شیطان نے اس پر سوار ہو کر اسکی لگامیں تھام لی ہیں اور وہ (شیطان) اُسے غرور وتکبر  ، دھوکے اور فریب کی لاٹھی سے ہانکتا  ہوا  جہنم کے دہانے پہ لا کھڑا کرتا ہے۔

علاوہ ازیں وہ لوگوں  کے پیچھے اپنی خودساختہ نیکی کے معیار کی ملامت لے کر چل پڑتا ہے۔جس سے وہ  اپنے گناہوں میں اضافہ کرتا ہے۔    ( قیامت کے دن لوگ اسکی نیکیاں لیکر اپنے گناہ اس کے اعمال نامے میں منتقل کر دیں گے) اور وه مفلس و نادار ره جاۓ گا

  انسان دشمنی میں شیطان  بندے کو  بندوں کا دشمن بنانے  پر ہی اکتفا نہیں کرتا  بلکہ  اُس کو  رب   کے متعلق غلط بیانی پر اکساتا ہے  اور انسان علم کے بغیر اللہ کے بارے میں ایسے کلمات  کہہ جاتا ہے جو اسے زیب نہیں دیتے۔

Advertisements

Say your heart out!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s