وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (u)

image.jpeg
جمعہ کی فقہ القلوب میں آپ نے دوبئ سے آئ ریت دکھائ ۔۔۔
پتا نہیں !   آپ تو کیا سوچ کے لائیں ۔۔۔۔۔
 بلکہ سچ تو یہ ہے آپ کے ہاتھ بھجوائ  گئ ہے ۔
 کہ پہلے بھی آپ کا بہت دفعہ جانا ہوا ، لیکن یہ اب ہی کیوں ؟؟؟؟؟؟
کہ ہم ، معرفت الہی اب سیکھ رہے ہیں
۔ پہلے دیکھتے تو صرف سادە سی رنگین مٹی لگتی ۔۔۔۔۔
اس ریت کے ذریعے معرفت الہی ایک اور ہی پہلو سے جاننے کاموقع ملا ہے
image.jpeg
۔۔۔۔جب سے معرفت کو ریت کے ذروں اور
خاص طور پہ چھو کر اس کی تخلیق اور الله کی بڑائ جو سمجھ میں آئ ہے ۔۔۔
۔ نہ ہی پوچھیں …………،
  ٬ وە صحرا جو پہلے بھی دیکھا تھا ۔۔۔۔ لیکن کس طرح؟؟؟؟
 ( ان کی آنکھیں ہیں پروە دیکھتے نہیں )
 اور پھر  وە صحرا کی گرتی ریت کا منظر
image.jpeg
٬ اسکی  باریکی ٬ ہیئت ٬ حقیقت ٬رنگ ٬  خوبصورتی  ٬چمک ٬ نفاست ٬
image.jpeg
  ان بارییییک ذروں سے بھرے دنیا بھر کےصحرا اور الله کی بہہہہہت ہی اعلی ارفع  ٬رحمان و رحیم ٬ ذوالعرش المجید  ٬  غفار الذنوب ٬ ستار العیوب ٬ذوالجلال و الاکرام ذات ۔۔۔۔
image.jpeg
پھر ہماری ادنی سی ٬انجام سے غافل ٬اعمال میں سست
٬ ٬خود غرض دنیا کی حرص و ھوا میں مگن  متکبر ذات …….
اور پھر بھی۔۔۔۔۔ پھر بھی … سب جان کر بھی ۔۔۔وە ذات
۔ ہم پہ اتنے احسان کے ساتھ مہربان ۔۔۔۔
 اتنالحاظ ٬ کون کرتا ہے ؟
image.jpeg
الله  سبحانە و تعالی کی ذات کریمی ،
اور اپنی حیثیت کی حقیقت کاوە
ادراک و احساس جو بڑے بڑے لیکچرز سے نہ ہو سکا
وە ان  باریک بظاہر معمولی سےچھوٹے چھوٹے ذرات نے
اپنے وجود سے لمحہ بھر میں سمجھا دیا۔
بہت رلایا ہے ان ذرات نے
image.jpeg
وە دن اور آج کا ۔۔۔ اچانک بیٹھے بیٹھے وە ریت اور ذرات وسیع صحرا اور اس ذات کی کبریائ کااحاس غالب آ جاتا ہے اور بس آنکھ سے آنسووں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور تب سمجھ میں آتا ہے  قول الله تعالى:
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
 وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
Image
اور پھر اس آیت ……
 وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
کی شکوە بھری حقیقت سے دل مزیدغمگین و بوجھل اور
آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے کہ واقعی ہم نے الله کے بارے میں
ابھی تک جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ۔
نہ تو اپنی اصل کو جانا اور نہ ہی اس ذات کی حیثیت کو
اس طرح مانا جیسا کہ
اس کا حق ہے ۔۔۔۔
ماقدر المشركون الله حق قدره ، حين عبدوا معه غيره ،
 وهو العظيم الذي لا أعظم منه ، القادر على كل شيء ،
 المالك لكل شيء ، وكل شيء تحت قهره وقدرته ..
.و ما عظموه حق عظمته . ..ولو قدروه حق قدره ما كذبوه .
 اب کچھ سمجھ میں آتا ہے ….
صحابہ کرام سب اعمال کر کے بھی اتنا کیوں روتے تھے۔۔۔۔؟
image.jpeg
 وە جانتے تھے کہ اس کی توفیق سے جو بھی نیکی کر لیں
اس ذات کا حق ادانہیں کر سکتے
 کہ الله کی بڑائ اور اپنی ذات کی حقیقت
دل کی گہرائیوں سے مان کر
سرتسلیم خم کر چکے تھے
قال اسلمت لله رب العالين ….
يا ربي….. يارحمان

ساعدني يا رحمان

ياارحم الراحمين
 اپنی معرفت کا فیضان عطا فرما۔
Image
“TURN to Allah
before you
RETURN to Allah.”


رب ذدني علما 📕✏

Advertisements

One comment on “وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (u)

Say your heart out!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s