Creation of Human [Urdu] خلق الانسان

By Uzma Nurain

تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

انسانی آنکھ کے بارے میں حیرت انگیز معلومات

اللہ تعالی نے انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیں تو درحقیقت ہم اللہ تعالی کی ایک نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالی کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک نعمت آنکھ ہے۔آنکھ کے اندر ایسا پچیدہ نظام کارفرما ہے کہ جس کا ادراک کرکے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
جب آپ کچھ لمحوں کے لیے ایک قلم کو اپنے ہاتھ میں دیکھتے ہیں کروڑوں اربوں قسم کے مختلف عمل آنکھ میں وقوع پذیر ہوتےہیں۔ روشنی قرنیہ اور پیوپل سے گزرتی ہے اور عدسہ تک پہنچتی ہے جہاں پر روشنی کے حساس خلیے اسے برقی حراروں میں تبدیل کرتے ہیں اور اعصابی نظام تک انکی ترسیل ہوتی ہے۔ پردہ چشم تک پہنچنے والی تصویر بلکل الٹی اور اوندھی ہو جاتی ہے تاہم دماغ اسے سمجھ سکتا ہے ، دونوں آنکھوں سے علیحدہ علیحدو تصویروں کو جمع کرکے، اس شے کے نقوش کی شناخت کرکے اور دونوں آنکھوں سے لی گئی تصاویر کو ملا کر ایک تصویر بناتا ہےاور ایک بلکل ٹھیک حالت میں تصویر کو پیش کرتا ہے ۔یہ اس شے کی ساخت، رنگ اور فاصلے کا بھی تعین کرتا ہے۔ آنکھیں یہ سب ایک سیکنڈ کے دسویں حصہ میں کرتی ہیں۔
ایسا ہی عمل دماغ میں بھی ہوتا ہے چاہے آپ کوئی چھوٹا سا نقطہ دیکھیں یا ایک بڑا جہاز دیکھیں نتیجتا بننے والی تصویر صرف ایک ملی میٹر کے حصہ میں ہوتی ہے۔ آپ کبھی بھی اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ آپ کے ہاتھ میں موجود قلم آپ سے کتنا قریب ہے یا ایک میل دور کھڑا بحری جہاز ایک پینسل سے بڑا ہے کیونکہ دماغ کے جس حصہ میں یہ تصاویر بنتی ہیں اسکا رقبہ سب کے لیے برابر ہے۔ تاہم جس چیز کو بھی آپ دیکھتے ہیں وہاں ایک فاصلہ کو محسوس کرنے کی حس موجود ہے ورنہ آپ کسطرح آسانی کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر گلاس کو اٹھائینگے؟ اللہ جس نے یہ بے عیب عضو تخلیق کیا ہے، اسے ایک ناقبل تصور لطیف جزئیات سے آراستہ کیا ہے اور دماغ کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ کسی چیز کو بھی اسکی مکمل تفصیلات کے ساتھ دیکھ سکے جہاں وہ ہے۔ یہ غیر معمولی پیچدہ انسانی آنکھ بھی اس ذات پاک کے عظیم کاموں میں سے صرف ایک عمل ہے۔
کوئی انسانی صنعت یہ کارنامہ نہیں پیدا کرسکتی۔ یہ سمجھنے کے لیے مستقل تحقیق ہورہی ہے کہ کسطر ح آنکھ یہ حیرت انگیز کام انجام دے سکتی ہے اور سائنسدان یہ معلوم کرنے کی جدوجہد میں ہیں کہ کس طر ح یہ ہمیں رنگین دنیا کا نظارہ کراتی ہیں۔ بے شک نا تو آنکھیں، جو کہ رقبہ میں کچھ سینٹی میٹر کے برابر ہیں اور نہ ہی دماغ کا وہ ملی میٹر سائز کا حصہ جہاں تصویر بنتی ہے، یہ رنگین دنیا بنانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ روح ہے جو باہر پائی جانے والی اشیاء کو دیکھتی ہے اور دماغ کے اندر اسکوواضح کرتی ہے۔ اللہ جو قادر مطلق ہے انسان کی پیدائش کے وقت اپنی روح پھونک کر ، اس نے لوگوں کو دیکھنے کے، ادارک کرنے اور محسوس کرنے کے قابل بنایا اور چیزوں کو انسان کے لیے مسخّر کردیا۔ تصویر جو بنتی ہے اور حیرت انگیز آنکھیں جو اسکا ادراک کرتی ہیں اور ان گنت نظام جو اس تمام کام میں شامل ہے صرف اللہ کی قدرت ہے
آج ہم اپنے موبائل کا کیمرہ میگا پکسل دیکھ کر خریدتے ہیں۔ 13 میگا پکسل کیمرے والا موبائل تقریبا ساری ہی پسند کرتے ہوں گے۔ اور اگر اس میں سونی کمپنی یا کارل زائس کمپنی کا لنز لگا ہوتو اس کو ہر کوئی پسند کرے گا۔ لیکن آپ کو شائد یہ بھی جان کر حیرت ہوگی کہ انسانی آنکھ کا عدسہ 576 میگا پکسل کے برابر ہوتا ہے۔
تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

آنکھ  انسانی جسم کا خود کار نظام ✨

ہمارے جسمانی اعضاء ہماری ذہنی سوچ اور ارادے کے مطابق عمل کرتے ہیں لیکن انسانی جسم میں کچھ نظام ایسے بھی ہیں جو ہماری سوچ کے تحت نہیں ہیں، انہیں ’’ خود کار نظام ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہمارے مخصوص اعضاء کی حرکات خود بخود ہوتی رہتی ہے۔
اس  میں ہماری سوچ اور نیت ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یہ خودکار نظام کے تحت متحرک رہتے ہیں۔
انسانی جسم میں ایسے خود کار نظاموں میں سے ایک نظام ’’ آنکھیں جھپکنا‘‘ بھی ہے، جس کے تحت ہماری پلکیں خود کار نظام سے آنکھوں کے اندرونی حصے کی صفائی کرتی ہیں۔ مسلسل دیکھنے کے عمل سے آنکھوں پر جو دباؤ اور بوجھ پڑتا ہے وہ پلکیں جھپکنے سے ختم ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ پلکوں کی یہ حرکت آنکھوں کو خشک ہونے سے بچاتی ہیں اور آنکھوں کو تر رکھ کر انہیں صحت مند رکھتی ہیں، خطرے کے وقت آنکھوں کو بند کرکے ان کی حفاظت کرتی ہیں۔ آنکھوں کی حرکت کا یہ عمل خود کار نظام کے تحت جاری رہتا ہے۔ انسان دن میں کئی بار آنکھیں جھپکتا ہے کیوں کہ آنکھیں جھپکنے کا عمل خود کار نظام کے تحت ہوتا ہے، اس لئے انسان کو بیشتر حالات میں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آنکھیں جھپک رہا ہے۔ لیکن اگر اس خود کار نظام میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو انسان کو احساس ہوجائے گا کہ یہ
اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے جس کے حصول کیلئے اسے کوئی محنت کرنا نہیں پڑتی۔
image2

✨انسانى جسم كى ہڈیاں

انسانی جسم میں ، کھوپڑی کی 28،ایک  بازو کی 32، اور ہر ٹانگ کی 31 ہڈیوں سمیت کل ملا کر  206 ہڈیاں ہوتی ہے۔

image3

✨انسانى جسم کی سب سے چھوٹی ہڈی

آپ کے جسم میں سب سے چھوٹی ہڈی رکابی ہوتی ہے، جو کان میں پائی جاتی ہے اور آواز منتقل کرنے کے لئے مدد کرتی ہے۔
image4

ہڈیوں کا گودا اور خون کے سرخ ذرات

image5

Advertisements

Say your heart out!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s