Reflecting on Allah’s Signs [Urdu]

By Natasha Younas

فقه الفکر و الاعتبار

غوروفکر اور اس سے سبق حاصل کرنا

صفحات 631 – 632

اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی تخلیق کی اور ان میں بے شمار نشانیاں رکھ دیں۔ پھر اس نے انسان کو عقل دی تا کہ وہ ان کونی نشانیوں پر غوروفکر کر ے اور عبرت کی نگاہ سے دیکھ کر اپنے لیے سبق لے۔ اور اس سے ان کے بنانے والے رب کی معرفت حاصل کرکے اور اس کی عظمت کو جان کر اس کی اطاعت بجا لائے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ }

زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔

اور ان نشانیوں میں غوروفکر کرنے والوں کو عقل رکھنے والے کہا کیونکہ تدبر وہی کرتا ہے جس میں عقل سمجھ ہو۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ زمین و آسمان کی نشانیوں میں غوروفکر کرے۔
پھر اللہ تعالی نے ان کی مزید صفت بتا‎‎ئی گئی کہ یہ لوگ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔اور ہر چیز میں غور و فکر کرنا ان کو اللہ کی یاد دلاتا ہے۔

{الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض}

جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں۔
پھر وہ اس سے عبرت حاصل کر کے کہتے ہیں۔

(سورة آل عمران : 190- 191){رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار ِ}

اے پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

کیونکہ ان کا غوروفکر کر کے اللہ کی عظمت و جلال کو پہچاننا انہیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے احکا مات کو نہ مانا تو وہ انہیں عذاب بھی دے سکتا ہے۔اس لیے وہ آخرت کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ پھر ان کا غوروفکر آخرت کے اعتبار سے ہو جاتا ہے وہ آخرت کے لیے ہی سبق لیتے ہیں کیونکہ درحقیقت اس زندگی کا نتیجہ ہی وہی ہے۔

 اللہ کی تخلیق میں کم و بیش غوروفکر تو سبھی کرتے ہیں لیکن کم ہی لوگوں کا غور آخرت پر مبنی ہوتا ہے۔
ایک مومن اور غیر مومن کے غوروفکر میں یہی فرق ہوتا ہے کہ مومن اس سے عبرت بھی پکڑتا ہے اور اس کو اپنی آخرت کے اعتبار سے سوچتا ہے جبکہ غیر مومن کا غور کرنا صرف دنیا کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ اس لیے نہ وہ اللہ کی عظمت و قدرت کو پہچانتا ہے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتا ہے۔

اللہ تبارك و تعالی خلق الانسان فی احسن تقویم،  وھدی سبحانه من یعلم انه یصلح لعبادته و طاعته ۔۔۔ 

اللہ تعالی نے انسان کو سب سے بہترین مخلوق پیدا کیا پھر اس کو ہدایت دی جس کے بارے میں اسے علم تھا کہ وہ اس کی عبادت اور اطاعت کے قابل ہے۔

 اللہ تعالی کو علم تھا کہ کون اس کی اطاعت و عبادت کے لیے فٹ ہے، کس کا کتنا ظرف ہے اور کون اسے پابندی سے سرانجام دے گا۔ اسی کے مطابق اس نے اس کو ہدایت دی اور جسے ہدایت مل جائے اسے عمل کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ پھر وہی اس کی جنت کے قابل ہے۔

و امر ھؤلاء بکل خیر، ونھاھم عن کل شر و امرھم بکل حسن ۔۔۔

اللہ تعالی کے ہر حکم میں انسان کے لیے خیر ہے۔ چاہے وہ کسی چیز کو کرنے کا ہو یا کسی شہ سے رکنے کا۔

اور ایک شعوری مسلمان وہی ہوتا ہے جو اس کے ہر حکم کو قبول کر لے اور “رضیت باللہ” کہے۔ اللہ کے پسندیدہ بندے وہی ہوتے ہیں جو اللہ کی مرضی کے آگے جھک جائیں اپنا نفس، جان، مال قربان کر دیں۔ اور اس کے لیے وہ کسی کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کوئی اور کرے یا نہ کرے:

(سورة الأنعام : 163){أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ }

سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔

اللہ عزوجل خلق فی کل انسان ثلاث اواني

آنیة الطعام و الشراب،  و ھي المعدة۔

و آنیة المعلومات، و ھي الدماغ۔

و آنیة الایمان، و ھي القلب۔

 

اللہ تعالی نے انسان کو تین برتن دئیے ہیں

معدہ – کھانے پینے کا برتن

دماغ – معلومات کا برتن

قلب – ایمان کا برتن

اور اللہ تعالی نے ان کے الگ الگ کام مخصوص کیے ہیں۔ اور ان میں سے بدترین برتن جسے بھرا جاتا ہے وہ معدہ ہے۔اور اس نے انسان کو عقل، دماغ اس لیے دیا کہ وہ اس کو اس کے حکم کے مطابق لگا سکے اس سے اللہ کی عظمت و جلال اور نشانیوں میں غوروفکر کرے۔ اور دل کو ایمان کا مرکز بنایا اور اس کو حکم دیا کہ دنیاوی اور قرآنی نشانیوں پر تدبر کرے تا کہ اس کا ایمان بڑھے اور اس میں اللہ کے احکامات ماننے کی طاقت آئے۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ہر عضو کے لیے حکم جاری کیا ہے اس کے لیے کچھ کرنے اور رکنے کے احکامات بھی واضح کیے۔

پھر جب انسان اپنے ہر عضو کو صحیح کام میں لگاتا ہے جس کے لیے وہ مخصوص کیا گیا ہے تو وہ اس میں لذت پاتا ہے اور بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جیسے انسان عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو جب وہ اپنے اعضاء کو عبادت مین تھکاتا ہے تو لذت بھی پاتا ہے۔ لیکن جب بندہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے لیے اس میں فوائد اور لذت معطل ہو جاتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو ہر وقت ہر لمحہ عبادت کی ذمہ داری دی ہے جس کو سر انجام دینا اسے اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کا محبوب بناتا ہے۔ پھر انسان عبادت میں مشغول ہو کر اللہ کی رضا پا لیتا ہے اور یہی اس کی غایت اولی ہے۔ لیکن اگر انسان خواہشات اور راحت پسندیوں میں وقت گزارتا ہے تو وہ خسارہ ہی اٹھاتا ہے اور نامراد ہوتا ہے۔

 اللھم اشغل اوقاتنا في عبادتك و قلوبنا بحبك 

و السنتنا بذکرك

و ابداننا بطاعتك 

وعقولنا بالتفکر في خلقك والتفقه في دینك۔ آمین

 

Advertisements

Say your heart out!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s